بھٹکل 10جنوری (ایس او نیوز) مختلف مزدور یونین اور تنظیموں کی جانب سے کیے گئے دو دن کے بھارت بند کا بدھ کو کوئی خاص اثر ضلع شمالی کینرا میں دیکھنے کو نہیں ملا۔ اور ضلع میں تقریباً ہر مقام پر عام زندگی معمول کے مطابق چلتی رہی۔ البتہ کاروار میں مزدور یونین کی جانب سے بس روکنے کی کوشش کے دوران یونین کی جنرل سکریٹری یمونا گاونکر سمیت دیگر لیڈران کو گرفتار کرلیا گیا، بعد میں اُن کی رہائی بھی عمل میں آئی۔ کاروار میں یموناگاونکر سمیت دیگر لیڈران کی گرفتاری پر بھٹکل میں سخت ردعمل سامنے آیا اور آشا کارکنوں نے بھٹکل بس اسٹائنڈ پر پہنچ کر احتجاج کرنا شروع کردیا۔
کاروار میں صبح جب سرکاری بسیں سڑک پر اتریں تو سی آئی ٹی یو کے اراکین اور لیڈروں نے بسوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی ۔ پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے مزدور یونین کے لیڈروں کوکچھ دیر کے لئے گرفتار کرلیا۔ اس سے ناراض ہوکر سی آئی ٹی یو کے کارکنان نے اپنے لیڈروں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک طرف کاروار میں سرکاری بس اسٹانڈ کے سامنے احتجاج پر بیٹھ گئے، وہیں بھٹکل میں بھی خواتین احتجاجیوں نے بس اسٹائنڈ پر جمع ہوکر احتجاج شروع کردیا۔
بھٹکل میں بس اسٹائنڈ پر احتجاج کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولس جائے وقوع پر پہنچی اور احتجاجیوں سے کہا کہ اُنہیں بس سروس کو متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔یہاں کافی دیر تک پولس اور کارکنوں کے درمیان لفظی جھڑپ ہوئی، بعد میں پولس کی درخواست پر احتجاجیوں نے ریلی کی شکل میں بھٹکل تحصیلدار دفتر پر پہنچ کر دھرنا دیا اور کاروار میں سی آئی ٹی یو لیڈران کی رہائی کی مانگ کو لے کر نعرے بازی شروع کردی۔
دوپہر 12بجے کے قریب کاروار پولیس نے گرفتار کیے گئے لیڈروں کو رہا کردیا۔ جس کے بعد لیڈران سمیت دیگر کارکنان نے بس اسٹانڈ سے جلوس کی شکل میں نکل کر گرین اسٹریٹ سے ہوتے ہوئے ہائی وے پر پہنچ کر راستہ روکو احتجاج کیا۔کچھ وقت کے لئے یہاں پر ٹریفک کی آمد ورفت متاثر رہی۔
سرسی سے ملنے والی خبروں کے مطابق وہاں پر عام زندگی معمول کے مطابق جاری رہی۔ البتہ مزدور یونین سے تعلق رکھنے والے مظاہرین نے پرانے بس اسٹانڈ کے پاس واقع سرکل پر احتجاجی مظاہرہ کیا اور اپنے مختلف مطالبات پورا کرنے کا تقاضہ کیا۔جس میں مہنگائی پر قابو پانا، ذخیرہ اندوزی او ربلیک مارکیٹنگ پر روک لگانا،بے روزگاری دورکرنے کے اقداما ت کرنا، راشن کارڈ کی سہولتوں کو درست کرنا،آشا کارکنان اور آنگن واڑی کارکنان کے مشاہرے میں اضافہ کرنا او ر پنشن کی سہولت کے علاوہ ڈائریکٹ فارین انویسٹمنٹ پر روک لگانا وغیرہ شامل ہے۔
یلاپور سے موصولہ رپورٹ کے مطابق آشا کارکنان نے شہر میں احتجاجی مارچ نکالا۔اور تعلقہ انتظامیہ کو اپنے مطالبات والا میمورنڈم پیش کیا۔تحصیلدار ڈی جی ہیگڈے نے میمورنڈم قبول کرنے کے بعد کہا کہ وہ اسے صدر ہند کوروانہ کریں گے۔جبکہ شہر میں دوسرے دن بھی عام زندگی معمول پر چلتی رہی۔ دکانیں اور بازار کھلے ہوئے تھے اور تعلیمی اداروں میں بھی حسب معمول تدریسی سرگرمیاں جار ی تھیں۔